ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تیزی سے خالی ہورہاہے خزانہ،حکومت آر بی آئی سے45ہزار کروڑ کی مدد لے گی

تیزی سے خالی ہورہاہے خزانہ،حکومت آر بی آئی سے45ہزار کروڑ کی مدد لے گی

Sun, 12 Jan 2020 10:42:24    S.O. News Service

نئی دہلی،12/جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ملک اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے۔اس بحران کے درمیان مرکزی حکومت ریزرو بینک آف انڈیا سے 45 ہزار کروڑ کی مدد مانگ سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت آمدنی بڑھانے کے لئے یہ قدم اٹھانے والی ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو ایک بار پھر آر بی آئی اور حکومت کے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں۔بتا دیں کہ ریزرو بینک نے مرکز کو منافع کے طور پر 1.76 لاکھ کروڑ روپے دینے کی بات کہی تھی۔اس رقم میں سے رواں مالی سال (2019-20) کے لئے 1.48 لاکھ کروڑ روپے دئیے گئے تھے۔رپورٹ کے مطابق آر بی آئی سرکاری بانڈ کے ٹریڈنگ سے منافع کماتا ہے۔اس کمائی کا ایک حصہ آر بی آئی اپنے آپریشنل اور ایمرجنسی فنڈ کے طور پر رکھتا ہے۔اس کے بعد بچی ہوئی رقم منافع کے طور پر حکومت کے پاس جاتی ہے۔ ایک افسر نے بتایا کہ رواں مالی سال بہت مشکل ہے۔اس سال اقتصادی سست روی کی وجہ سے ترقی کی شرح 11 سال کی سب سے نچلی سطح (پانچ فیصد) پر پہنچ سکتی ہے۔ ایسے میں آر بی آئی سے ملی مالی مدد سے حکومت کو راحت مل سکتی ہے۔ ذرائع نے کہاکہ ہم آر بی آئی سے مددکو ایک مستقل عمل نہیں بنانا چاہتے، لیکن اس سال کورعایت سمجھا جا سکتا ہے۔ذرائع نے کہا کہ حکومت کو 35,000 کروڑ سے 45,000 کروڑ روپے تک کی مدد کی ضرورت ہے۔ اگر آر بی آئی نے مرکزی حکومت کی مانگ کو مان لیا تو یہ مسلسل تیسرا سال ہو گا، جب حکومت کے پاس منافع آئے گا۔اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ آر بی آئی اور حکومت کے درمیان پھر اختلافات ہو سکتے ہیں۔بتا دیں کہ سابق گورنر ارجت پٹیل کے دور میں فنڈ ٹرانسفر پر تنازعہ ہوا تھا۔جس کا اختتام ارجت پٹیل کے استعفیٰ سے ہوا۔


Share: